زاہد ڈار کو صحیح معنوں میں جدیدیت کا شاعر کہا جا سکتا ہے۔زاہد ڈار کی ولادت 1936 میں لدھیانہ، مشرقی پنجاب میں ہوئی اور تقسیم کے بعد ان کا خاندان لاہور تقسیم ہوگیا۔زاہد ڈار نے 1952 میں اسلامیہ ہائی سکول لاہور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اسی سال گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔مستقل مزاج زاہد ڈار عمر کے سولہویں برس میں ہی اس حقیقت سے آشنا ہوچکے تھےکہ انہوں نے زندگی میں صرف ادب پڑھناہے۔1957/58 میں پاک ٹی ہاؤس آنا جانا شروع کر دیا اور شاعروں، ادیبوں سے صحبت ہی ان کی ذندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا۔ زاہد ڈار کی شاعری کی پہلی کتاب 1965 میں"درد کا شہر" کے عنوان سے چھپی۔دوسری کتاب "محبت اور مایوسی کی نظمیں" 1982 میں شائع ہوئی۔ان کی نظموں کا ایک انتخاب شمیم حنفی صاحب نے "آنکھ میں سمندر" کے نام سے کیا جو پہلے ہندوستان اور پھر پاکستان سے چھپا۔اسی طرح ان کی تمام نظموں پر مشتمل کلیات 1988 میں "تنہائی"کے نام سے سامنے آیا۔زاہد ڈار 13 فروری 2021 کو 84 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔